19 فروری 2012 - 20:30

اگرچہ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے بغداد میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شام کے صدر بشار اسد کی شرکت کی امید ظاہر کی ہے لیکن عرب لیگ کے بعض رکن ممالک اس اجلاس میں بشار اسد کی شرکت کو ناممکن قرار دے رہے ہیں۔

ابنا: عراق کے وزیر اعظم نےتاکید کی کہ عراق عرب لیگ کے تمام فیصلوں کا پابندہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ بغداد میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شام کے صدر بشار اسد یا ان کا نما‏‏ئندہ ضرور شرکت کرےگا۔

عراقی وزیر اعظم نے، جن کا ملک مارچ میں ہونےوالے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کا میزبان ہے کہا ہے کہ ہم عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شام کی عدم شرکت پر مبنی عرب لیگ کے فیصلے کے پابند ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ بشار اسد اس اجلاس میں ضرور شریک ہوں گے۔

یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب عراق نے اس سے پہلے عرب لیگ سے مطالبہ کیا تھا کہ عرب لیگ اس تنظیم میں شام کی معطل رکنیت کو استثنی دیدے تاکہ بغداد میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شام کے حکام بھی شرکت کر سکیں۔

نوری مالکی نے عرب لیگ کے حالیہ فیصلے اور اس لیگ میں شام کی رکنیت معطل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عرب لیگ سے شام کی رکنیت کی معطلی کو صرف عرب ملکوں کے نمائندوں کی سطح تک ہی محدود کیا گیا تو ہمیں امید ہے کہ بغداد میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں "بشار اسد" یا ان کا نمائندہ شرکت کرےگا لیکن اگر عرب لیگ کی تمام سرگرمیوں میں شام کی رکنیت معطل ہوگئی ہو تو ہم عرب ليگ کے فیصلوں کے پابند ہیں۔

عرب لیگ کا سربراہی اجلاس انتیس مارچ سے بغداد میں شروع ہوگا اورعراق نے بھی کہا ہے کہ اس اجلاس کے انعقاد کے لئے تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ سعودی عرب نے عرب لیگ میں دھڑے بندی کر کے نومبر دو ہزار گیارہ میں عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل کرا دی پھر اس ملک کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے خلاف محاذ بنا لیا اور وہ بھی ایسے حالت میں کہ جب عراق، لبنان، الجزائر اور یمن ابتدا سے ہی شام کے بائیکاٹ اور رکنیت کی معطلی کے مخالف تھے۔

دوسری طرف عرب لیگ کے بعض ارکان کی جانب سےشام سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کے بعد کہ جن میں مصر بھی شامل ہو گیا ہے مغربی ممالک کے بعد ان عرب ممالک نے بھی شام سے سفارتی جنگ شروع کر دی ہے جب کہ سوڈان اور اردن نے شام سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کی مخالفت کی ہے اور عرب دنیا کا ساتھ نہیں دیا ہے۔

گزشتہ سال خطے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کے شروع ہونے کی بنا پر عرب لیگ کا اجلاس منعقد نہیں ہو سکا تھا اور مارچ دو ہزار بارہ تک ملتوی کر دیا گیا تھا اور اس وقت شام کے سلسلےمیں عرب لیگ کے درمیان اختلاف نے اس اجلاس کے انعقاد کو بھی ابہام کا شکار کر دیا ہے۔

گزشتہ سال جنوری سے شام کے حالات کشیدہ ہیں اور اس ملک کے اعلی حکام یہ بدامنی اور کشیدگی جاری رہنے کا ذمہ دار بیرونی اور علاقائی سازشوں اور مداخلت کو قرار دیتے ہیں۔
........ 
/169